skip to content


al-Ḥusain wa-tašrīʻ al-islāmī Ǧuzʼ 2

by Muḥammad Ṣādiq al Karbāsī

  Book  |  Ṭabʻa 1

1 of 1 people found this review helpful.
حقیقی اسلام اور مختلف فرقے   (2013-01-24)

Excellent

User profile avatar
by MaulanaMirzaMohammedJawad

حقیقی اسلام اور مختلف فرقے

(حسینی دائر ۃ المعارف کے علمی و تحقیقی عمل کا ایک باب)

تجزیہ و تبصرہ: حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد  (شبیر)

رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد جہان اسلام میں مختلف فرقے وجود میں آئے، اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ بھی ہوتا گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا: لتفترقن امتی علی ثلاث و سبعین فرقة  بیشک میری امت کے تہتر فرقے ہونگے (معجم الکبیر: جلد ۱۸، ص ۷ا۰)، رسول اسلام کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور مسلمانوں کے درمیان تہتر فرقے وجود میں آئے جن میں سے بعض کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔

رسول اسلام نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ تمام فرقے ہلاک ہوں گے اور ان میں سے صرف ایک فرقہ نجات پائے گا، لہذا ہر دور میں مسلمانوں کے تمام فرقوں نے خود کو نجات یافتہ سمجھا، جبکہ  آنحضرت کی حدیث کے مطابق صرف ایک ہی فرقہ نجات پانے والا ہے، البتہ ایسا نہیں ہے کہ اس ناجی فرقے کی حضور نے پہچان نہ کروائی  ہو، اگر حدیث ثقلین کا سہارا لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ کونسا فرقہ نجات پانے والا ہے، رسول اسلام نے فرمایا: انی تارک فیکم الثقلین ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی فانھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض (تفسیر برھان: ۱/۹)، میں تمھارے درمیان ثقلین (قرآن و اہلبیت) چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم ان دونوں کا دامن تھامے رہوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ ناجی فرقہ وہی ہے جو قرآن و اہلبیت کے ساتھ ہو۔

حدیث ثقلین کو اکثر مسلمان قبول کرتے ہیں، بس اس فرق کے ساتھ کہ عامۂ مسلمین ازواج رسول کو اہلبیت میں داخل کرتے ہیں اور اہل تشیع صرف پنجتن کو اہلبیت کا مصداق قرار دیتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا ازواج رسول بھی اہلبیت میں شامل ہیں یا نہیں؟

اس بات کی وضاحت کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس طرح قرآن کی آیات میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا اسی طرح اہلبیت کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے، تاکہ دونوں کو ثقلین کہا جا سکے، اور ان سے ہدایت حاصل کی جا سکے،قرآن مجید کی آیات میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے لہذا قرآن کو ثقل کہا گیا، اب ہمیں ان افراد کو اہلبیت میں شامل کرنا ہے جن میں کسی قسم کا اختلاف نہ پایا جائے، اور جب ہم نے ایسے افراد کی تلاش کی تو ہمیں صرف پنجتن نظر آئے جن میں قرآن کی طرح کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا ہے، لہذا ہم نے انھیں افراد کو اہلبیت کا مصداق جانا ۔

لیکن اگر جناب عائشہ کو اہلبیت میں کہ جہاں حضرت علی(ع) بھی موجود ہیں شامل کیا جائے تو آگے چل کر تاریخ میں ان کے درمیان جنگ جمل جیسا اختلاف نظر آتا ہے، جبکہ حدیث ثقلین کی روشنی میں مفروض یہ ہے کہ اہلبیت میں وہی افراد شامل ہوں گے کہ جن میں کسی قسم کا اختلاف نہ ہو لہذا جناب عائشہ مولا علی سے اختلاف کرنے کی وجہ سے اہلبیت میں داخل نہیں ہو سکتیں۔

ناجی فرقے کی تلاش ایک اہم اور مشکل امر ہے لہذا اس مشکل کو آسان کرنے کے لئے دائرۃ المعارف الحسینی کے مصنف آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے "الحسین و التشریع الاسلامی" کی جلد دوم (جو ۴۶۴ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۲۰۰۵ میلادی میں چھپ کر منظر علم پر آچکی ہے) میں اسلام میں پیدا ہونے والے تمام اہم فرقوں پر روشنی ڈالی ہے، جس میں ان فرقوں کے وجود میں آنے کی تاریخ، انکی پیشرفت، اور ان کے اعتقادات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جلد اول کی طرح کتاب الحسین و التشریع الاسلامی کی دوسری جلد  میں بھی مصنف نے امام حسین(ع) اور اسلامی تشریع (قانونگذاری) کے مقدماتی مباحث پر گفتگو  کی ہے، مصنف نے جلد اول میں آدم سے خاتم تک تشریع کی تاریخ کو بیان فرمایا تھا اور اس جلد میں رسول اسلام کے بعد  وجود میں آنے والے سات فرقوں اور انکی تشریع کے مبانی کو تفصیل کے ساتھ  بیان فرماتے ہیں، یہ فرقے وہ ہیں کہ جن کے پیروکار اور  حکومتیں آج بھی موجود ہیں، اور وہ سات فرقے یہ ہیں:

۱۔ فرقۂ امامیہ ۔ ۲۔ فرقۂ زیدیہ، ۳ فرقۂ اباضیہ، ۴۔ فرقۂ حنفیہ، ۵۔ فرقۂ مالکیہ، ۶۔ فرقۂ شافعیہ، ۷۔ فرقۂ حنبلیہ۔

ہم اس مقام پر مذکورہ فرقوں کے بانی، ان کے اعتقادات اور فقہی مبانی پر اجمالی روشنی ڈالتے ہیں:

فرقۂ امامیہ:

وہ افراد جو امام معصوم کی پیروی کرتے ہیں انھیں امامی کہا جاتا ہے، یہاں امام سے مراد اثنا عشر ائمہ ہیں جن میں سے سب سے پہلے امام حضرت علی(ع) اور آخری امام حضرت مہدی(ع) ہیں، چونکہ شیعہ فرقوں میں زیدی اور اسماعیلی بھی پائے جاتے ہیں لہذا ہر امامی کو شیعہ کہا جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر شیعہ امامی ہو ( یہاں عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے)، فرقۂ امامیہ کو فرقۂ جعفری بھی کہتے ہیں۔

لفظ شیعہ رسول اسلام کے دور میں رائج تھا،  چونکہ رسول اسلام نے فرمایا تھا: علی و شیعته ھم الفائزون یوم القیامة  اور اوائل میں ابوذر، مقداد اور سلمان فارسی کو شیعہ علی کہا جاتا تھا۔

امامیہ مذہب کے ماننے والے مندرجہ ذیل امور پر اعتقاد رکھتے ہیں:

۱۔ خدا کا عادل ہونا، ۲۔ رسول اور ائمہ کا معصوم ہونا، ۳۔ خلافت کا منصوص من اللہ ہونا، ۴۔ علم معصومین کا لدنی ہونا، ۵۔ مطلقا خدا کی رویت کا محال ہونا، ۶۔ قرآن مجید کا مخلوق ہونا۔

امامیہ مذہب کے فقہی مبانی یہ ہیں:

۱۔ قرآن، ۲۔ سنت (حدیث معصومین علیہم السلام)، ۳۔ اجماع، ۴۔ عقل۔

فرقۂ زیدیہ:

یہ فرقہ زید بن علی بن حسین(ع) سے منسوب ہے، جناب زید سنہ ۶۶ھ کو پیدا ہوئے اور سنہ ۱۲۱ھ کو وفات پائی، آپ نے امامت امام باقر و امام صادق علیہما السلام کو نافذ کرنے کے لئے ہشام بن عبد الملک پر خروج کیا اور اس امر میں درجۂ شہادت پر فائز ہوئے، جناب زید کی قربانی کو امام صادق علیہ السلام نے سراہتے ہوئے فرمایا: انما دعا الی الرضا من آل محمد، و لو ظفر لوفی بما دعا الیہ۔

زید بن علی کے فقہی مبانی: قرآن، سنت رسول و اہلبیت تھے لیکن ان کے پیروکار  رای، قیاس، استحسان، مصالح مرسلہ، استصحاب کو بھی ان مبانی میں شامل کرتے ہیں۔

فرقۂ اِباضیہ:

اس فرقے کی نسبت عبد اللہ ابن اِباض کی طرف دی جاتی ہے جو سنہ  ۲۴ ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ ۸۶ ہجری میں وفات پائی، عبد اللہ ابن اِباض کے ماننے والوں کو اباضی کہتے ہے، یہ فرقہ خوارج کے فرقوں میں سے ایک ہے گرچہ اس فرقے کے ماننے والے اس بات کو قبول نہیں کرتے، لیکن اکثر مورخین نے فرقۂ اباضی کو خارجی فرقہ قرار دیا ہے۔

فرقۂ اباضیہ کے چند اعتقادات یہ ہیں:

تقیہ کا صرف قول میں جائز ہونا، اطاعت گذار سے دوستی اور گناہکار سے برائت کا اظہار کرنا، قیامت کے دن خدا کی رویت کا ممکن نہ ہونا، مرتکب گناہ کبیرہ کا کافر ہونا، وہ امامت جو وصیت کے ذریعہ ہو اس کا باطل ہونا۔

اس فرقے کے فقہی مبانی سات ہیں:

۱۔ قرآن، ۲۔ سنت، ۳۔ قیاس، ۴۔ استحسان، ۵۔ مصالح مرسلہ، ۶۔ صحابی کا قول، ۷۔ استدلال ۔

دور حاضر میں اس فرقے کے پیروکار عمان، لیبیا، جزائر، تونس، حضرموت، یمن، اور مصر میں پائے جاتے ہیں۔

فرقۂ حنفیہ:

اس فرقے کے بانی نعمان بن ثابت تھے جو سنہ ۸۰ ھ کو پیدا ہوئے اور سنہ ۱۵۰ھ میں وفات پائی، ابوحنیفہ انکی کنیت تھی اور آپ کو اہلسنت امام اعظم بھی کہتے ہیں، اس مذہب کے پیروکار کو حنفی کہا جاتا ہے۔

ابوحنیفہ معتقد تھے کہ ایمان میں درجات نہیں ہوتے  بلکہ سب کا ایمان ایک ہی مرتبہ پر فائز ہوتا ہے اور خدا ہی انسان سے نیکی و برائی کرواتا ہے۔

اس فرقے کے فقہی مبانی  ۸ ہیں:

۱۔ کتاب، ۲۔ سنت، ۳۔ قیاس، ۴۔ استحسان، ۵۔ اقوال اصحاب، ۶۔ اجماع، ۷۔ عرف، ۸۔ حیل شرعیہ۔

فرقۂ مالکیہ:

یہ مذہب مالک بن انس سے منسوب ہے جو سنہ ۹۳ ھ  میں پیدا ہوئے اور سنہ ۱۷۹ھ میں وفات پائی، اس مذہب کے پیرو کار کو مالکی کہتے ہیں۔

مالک بن انس رویت خدا کے قائل تھے اور آپ کے فقہی مبانی ۸ ہیں:

۱۔قرآن، ۲۔سنت، ۳۔اجماع(اجماع فقہائے مدینہ)،  ۴۔قیاس(رائے)، ۵۔استحسان، ۶۔عرف، ۷۔مصالح مرسلہ، ۸۔سد ذرائع۔

فرقۂ شافعیہ:

اس مذہب کو محمد ابن ادریس شافعی سے نسبت حاصل ہے جو سنہ ۱۵۰ ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ۲۰۴ھ  میں وفات پائی، اس مذہب کے پیروکار کو شافعی کہتے ہیں، محمد ابن ادریس معتقد تھے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے اور خدا قیامت میں دکھائی دیگا، ان کے فقہی مبانی چار ہیں:

۱۔قرآن، ۲۔سنت، ۳۔اجماع، ۴۔قیاس۔

فرقۂ حنبلیہ:

یہ فرقہ احمد بن محمد بن حنبل کی طرف منسوب ہے، جنھیں امام احمد بن حنبل بھی کہا جاتا ہے اور جو ان کا پیروکار ہے اسے حنبلی کہتے ہیں۔

احمد بن حنبل سنہ ۱۶۴ ہجری کو بغداد میں پیدا ہوئے اور سنہ ۲۴۱ ھ میں وفات پائی۔

حنبلی فرقے کے اہم اعتقادات یہ ہیں:

۱۔ قیامت کے دن خدا کا  دکھائی دینا، ۲۔ پیغمبر  اسلام کا خدا کو دیکھنا، ۳۔ قرآن کا مخلوق نہ ہونا، رسول کا شفیع قرار پانا۔

اس فرقے کے فقہی مبانی ۷ ہیں:

۱۔ کتاب، ۲۔ سنت، ۳۔ فتوائے صحابی، ۴۔ حدیث مرسل و ضعیف، ۵۔ قیاس، ۶۔ مصالح مرسلہ، ۷۔ سد  ذرائع۔

دائرۃ المعارف الحسینیہ کے مصنف  آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے مذکورہ تمام فرقوں کے معتبر یا غیر معتبر ہونے پر تفصیلی گفتگو کرنے کے  بعد ایک محققانہ جدول پیش کیا ہے جس کے ذریعہ کسی بھی مسئلہ میں ان فرقوں میں موجود ہ اختلاف  آراء کو بخوبی درک کیا جا سکتا ہے۔ اس علمی کاوش کے بعد مصنف نے ادوار تشریع کے ایک اہم دور یعنی دور مرجعیت فقھا  شیعہ پر روشنی ڈالی ہے۔

فقہاء کی مرجعیت:

جس طرح رسول اسلام نے بعد میں آنے والے خلفاء کا تعین فرمایا تھا بالکل اسی طرح امام مہدی(ع) نے  بھی غیبت کبری سے پہلے اپنے شیعوں سے فرمایا:  و اما الحوادث الواقعة فارجعوا فیھا الی رواۃ حدیثنا فانھم حجتی علیکم و انا حجة اللہ علیھم (وسائل الشیعہ جلد ۲۷ ص ۱۴۰) یعنی ہمارے زمانۂ  غیبت میں نئے پیش آنے والے مسائل میں راویان حدیث کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم اللہ کی طرف ان پر حجت ہیں، لہذا فرقۂ امامیہ کے پیروکار غیبت کبری میں راویان حدیث (جنھیں فقیہ و مرجع تقلید بھی کہا جاتا ہے) کی طرف رجوع کرتے ہیں تاکہ وہ مسائل مستحدثہ میں قرآن، حدیث، عقل اور اجماع کی روشنی میں احکام کا تعین کرسکیں۔

چونکہ مرجعیت ایک اہم منصب ہے لہذا اہل تشیع ہر فقیہ کی تقلید کو جایز نہیں سمجھتے بلکہ وہ فقیہ لائق تقلید ہوتا ہے جو صفات حسنہ اور علوم مختلفہ میں اعلی درجہ پر فائز ہو، لہذا ہر جامع الشرائط فقیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مندرجہ ذیل صفات کا متحمل ہو:

۱۔ عاقل ہو، ۲۔ ذہین ہو، ۳۔ فراموش کار نہ ہو، ۴۔ نیک عقیدہ رکھتا ہو، ۵۔ اجتہاد کی کامل استعداد و صلاحیت رکھتا ہو، ۶۔ متوازن شخصیت و کردار کا مالک ہو، ۷۔ عادل ہو، ۸۔ دلیل کا تابع ہو، ۹۔ دنیوی و دینی امور کو اچھی طرح چلانے کی قابلیت رکھتا ہو۔

علمی اعتبار سے ایک فقیہ کا مندرجہ ذیل علوم پر مہارت رکھنا بیحد ضروری ہے۔

۱۔ علم لغتِ عربی،  ۲۔ علم صرف،  ۳۔ علم نحو،  ۴۔ علم بلاغت،  ۵۔ علوم قرآن،  ۶۔ علوم حدیث،  ۷۔ علم کلام،  ۸۔ علم اصول فقہ،  ۹۔ علم فقہ،  ۱۰۔ علوم اجتماعی۔

فقیہ کی ولایت:

جو فقیہ مذکورہ تمام صفات اور علوم میں اعلی درجے پر فائز ہو  وہ مومنین پر ولایت رکھتا ہے لہذا اس مقام پر مصنف آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے ولایت فقیہ پر مفصل و مدلل بحث فرمائی ہے، ہم اس مقام پر اجمال کے ساتھ اس بحث پر روشنی ڈالتے ہیں:

ولایت اور اسکی اقسام:

لغت میں ولایت اس تصرف کے حق کو کہتے ہیں جو کسی شیٔ یا شخص یا دونوں پر ہوتا ہے (ھو حق التصرف السلطوی علی شیء او شخص او معا)۔

اور اصطلاح شرع میں موجودات پر شرعی تصرف یا تسلط  کو ولایت کہتے ہیں، چاہے وہ موجودات انسان ہوں یا غیر انسان، ایک فرد ہو یا پورا اجتماع (ھو حق التصرف و الاستیلاء الشرعی علی الموجودات سواء کان انسانا او غیرہ، فردا کان اور مجتمعا)۔

ولایت کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں:

ولایت تکوینیہ  ذاتیہ: وہ ذاتی اور مطلق حق کہ جس کی بنیاد پر خداوند عالم کائنات اور مخلوقات کو خلق فرماتا ہے اور ان میں تصرف کرتا ہے۔

ولایت تکوینیہ تکریمیہ: اللہ تبارک و تعالی نے  انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کو  کائنات اور مخلوقات پر  تصرف کا حق عطا فرمایا ہے لہذا اس ولایت کو ولایت تکوینیہ تکریمیہ کہتے ہیں، جس کے ذریعہ وہ معجزات اور کرامات بھی انجام دیتے ہیں۔

ولایت تشریعیہ ذاتیہ: قانونگذاری کا ذاتی حق خدا کو حاصل ہے لہذا اس امر میں ذات احدیت کی ولایت کو ولایت تشریعیہ ذاتیہ کہتے ہیں۔

ولایت تشریعیہ تکریمیہ: رسول اسلام اور ائمۂ اہلبیت علیہم السلام بالعرض   تشریع کا حق رکھتے ہیں یعنی انھیں تشریع کا حق خدا نے عطا فرمایا ہے۔

اس بات میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے کہ ہر جامع الشرائط فقیہ کو  ولایت حاصل ہے ، لیکن اس کے دائرۂ  اختیارات میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، لہذا مصنف نے اس مقام پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو کے بعد اپنی رائے کو پیش فرمایا ہے، ولایت کی مزید مندرجہ ذیل اقسام پر توجہ کرنے سے آیت اللہ محمد صادق کرباسی کی علمی و تحقیقی کاوش سے آگاہی حاصل ہوتی ہے کہ انھوں نے کس قدر محنت کے ساتھ موضوع سے مربوط جہات کو آشکار کیا، اور اسی کے ضمن میں مصنف کی رائے بھی واضح ہوجاتی ہے:

ولایت مطلقہ: وہ ولایت جس میں اختیارات کا دائرہ بدون قید و شرط  ہو ۔

ولایت مقیدہ: وہ ولایت جو برخلاف ولایت مطلقہ ،  مقید ہو۔

ولایت عامہ: وہ ولایت جو   تمام جامع الشرائط  افراد  میں پائی جاتی ہے۔

ولایت خاصہ: وہ ولایت جو خاص افراد میں پائی جاتی ہے جیسے باپ کی ولایت اولاد پر۔

مذکورہ بالا تقسیمات کے پیش نظر آیت اللہ محمد صادق الکرباسی کے نزدیک معصومین علیہم السلام کی ولایت، ولایت عامۂ مطلقہ ہے اور تمام جامع الشرائط فقہا کو   ولایت عامہ غیر مطلقہ حاصل ہے۔

ولایت فقیہ اور ولایت شوری:

تمام اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی امور میں جامع الشرائط فقہاء کو مومنین پر ولایت حاصل ہے  چونکہ امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا و اما الحوادث الواقعة فارجعوا فیھا الی رواۃ حدیثنا فانھم حجتی علیکم و انا حجة اللہ علیھم (وسائل الشیعہ جلد ۲۷ ص ۱۴۰) لہذا اگر دور غیبت میں کسی بھی ملک میں شیعی حکومت برقرار ہو جائے تو  تمام مومنین پر واجب ہوگا کہ وہ دینی امور کی طرح حکومتی امور میں بھی  جامع الشرائط فقہاء کی پیروی کریں چونکہ مذکورہ حدیث کی روشنی میں معصوم نے فقہاء کرام کو  دین و دنیا میں ہم پر حجت قرار دیا ہے۔

لیکن سوال یہ پیش آتا ہے کہ کسی بھی حکومت کو چلانے کےلئے آیا ایک فقیہ کافی ہے؟  یا پھر  جامع الشرائط فقہاء کی کمیٹی ہو ،  اس امر میں فقہاء  کے درمیان اختلاف ہے لہذا آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے ولایت فقیہ اور  ولایت شورائے فقہاء پر تفصیلی بحث فرمائی ہے، ہم یہاں اختصار سے اس بحث کو  پیش کرتے ہیں:

آیت اللہ خمینی فرماتے ہیں کہ غیبت امام مہدی(ع) میں جو فقیہ عادل، شجاع، مدیر، مدبر، ْحالات زمانہ سے باخبر ہو اور جسے سب پہچانتے ہوں اور اسکی قیادت کو بھی قبول کرتے ہوں وہ مومنین پر  ولایت رکھتا ہے  لیکن اگر کسی ایک فرد  میں یہ تمام شرائط نہ پائی جائیں تو جامع الشرائط فقہاء کو ولایت حاصل ہوگی (قانون جمہوری اسلامی ایران: ص ۲۲ مادۂ خامسہ)<a style="mso-footnote-id: ftn1;" name="_ftnref1" href="#_ftn1">[1]</a>

آیت اللہ محمد شیرازی کا نظریہ اس نظریہ سے بالکل برعکس ہے  جسمیں وہ فرماتے ہیں کہ تمام جامع الشرائط فقہاء کو ولایت حاصل ہے لہذا کسی بھی حکومت کو چلانے کے لئے  سب سے پہلے شورائے فقہاء کو ولایت حاصل ہوگی لیکن اگر جامع الشرائط فقیہ ایک ہی ہو  تو وہ ولی فقیہ قرار پائے گا۔

مصنف آیت اللہ الکرباسی نے ایک طولانی بحث کے  بعد فرمایا کہ قیادت اور  ولایت شورائے فقہاء کو حاصل ہے، لیکن اگر جامع الشرائط فقیہ ایک ہی ہو تو اسے قیادت حاصل ہوگی لیکن ان دونوں صورتوں میں فقیہ یا فقہاء  کے لئے لازم و ضروری ہے کہ وہ اجتماعی، سیاسی، اقتصادی، اور دیگر حکومتی امور میں اہل معرفت اور اہل تخصص سے مشورہ  کریں۔

تشریع اسلام کی پیشرفت:

مصنف نے اس عنوان کے تحت تشریع اسلام کی پیشرفت پر  روشنی ڈالتے ہوئے  ان تمام شہروں کے بارے میں تفصیلی گفتگو فرمائی ہے کہ  جن کو تشریع اسلام کی پیشرفت میں علمی مراکز  ہونے کی حیثیت حاصل ہے  ، کتاب "الحسین و التشریع الاسلامی" جلد دوم  میں صرف پہلے علمی مرکز یعنی مدینہ منورہ  پر گفتگو کی گئی ہےاور بقیہ مراکز علمیہ کے تذکرہ کو جلد سوم پر موکول کیا گیا ہے۔

مدینہ منورہ:

سب سے پہلا علمی مرکز  مدینہ منورہ تھا  جہاں خود رسول اسلام نے تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع فرمایا اور آپ کی درسگاہ سے بیشمار شاگرد وں نے تربیت پائی، رسول اسلام کی وفات کے بعد بھی اسی شہر  کو علمی مرکز یت حاصل رہی، اس دور میں بھی تعلیم و تربیت کےسلسلہ کو باب مدینۃ العلم علی بن ابیطالب(ع) نے جاری رکھا، لیکن مولا علی (ع) کے دور حکومت میں  یہ علمی مرکز  مدینہ سے کوفہ منتقل ہوا اور پھر شہادت امیر المومنین کے بعد امام حسن(ع) کے دور میں مدینہ منورہ کو دوبارہ علمی مرکزیت حاصل ہوئی، امام حسن(ع) نے اپنے دور میں بیشمار شاگرد تربیت فرمائے، جن کی تعداد  ۴۵ تھی،  آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے ان تمام شاگردوں کی سوانح حیات پر مفصل روشنی ڈالی ہے، قارئین مزید اطلاعات کے لئے کتاب کی طرف رجوع فرمائیں۔

کتاب "الحسین و  التشریع الاسلامی"  کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے اس کی ہر جلد میں دائرۃ المعارف الحسینیہ کی دیگر جلدوں کی طرح آخر کتاب میں قارئین کی آسانی کے لئے مختلف فہرستوں کو درج کیا گیا ہے  جنمیں فھرست آیات مبارکہ، فھرست احادیث و اخبار، فھرست امثال و حکم، فھرست اعلام و شخصیات، فھرست قبائل و انساب و جماعات، فہرست طوائف و ملل، فہرست اشعار، فہرست تاریخ، فہرست لغوی، فہرست مصطلحات شریعت اور دیگر مفید فہرستیں شامل ہیں،۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دائرۃ المعارف الحسینیہ کی ہر جلد پر دنیا کے کسی نامور دانشور (خواہ ان کا تعلق کسی بھی دین و مذہب اور زبان و علاقہ سے  ہو) کا اظہار خیال شامل کیا گیا ہےچنانچہ اسی سلسلہ میں "الحسین و التشریع الاسلامی" کی جلد دوم میں فہارس کے اختتام پر آسٹریلیا کی Monash University کے لکچرر  Philip Morriesy نے اپنے مقالہ میں امام حسین(ع) کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: امام حسین(ع)  نے اپنی قربانی کے ذریعہ  بشریت پر قیامت تک کے لئے اثر چھوڑا ہے جس کا ثبوت ہمیں دائرۃ المعارف الحسینیہ سے ملتا  ہے،میں اس عظیم شخصیت کے سامنے ادب و احترام سے اپنے سر کو خم کرتا ہوں،  اس اظہار عقیدت کے بعد  فلیپ موریسی نے مصنف کی اس قلمی کاوش کی قدر دانی کرتے ہوئے کہا: حضرت امام حسینؑ کے فرمودات کی روشنی میں قانون گذاری کے موضوع پر اس سے پہلے کبھی علمی و تحقیقی کام نہیں ہوا اس خلاء یا ضرورت کو پورا کرنے کے لئے آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے جو اہم اقدام کیا وہ دائرۃ المعارف نویسی کی تاریخ میں منفرد ہے۔

<div style="mso-element: footnote-list;">

<div id="ftn1" style="mso-element: footnote;">

۔ ہم نے بھی اسی رائے کو اختیار کیا ہے(میرزا محمد جواد)۔[1]

</div> </div>




Was this review helpful to you?     

Flag as Inappropriate; Flag as Inappropriate
Close Window

Please sign in to WorldCat 

Don't have an account? You can easily create a free account.